Pay in 4 interest-free payments of $12.50 Learn more
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 7 - Aug 12
Pay in 4 interest-free payments of $12.50 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 7 - Aug 12
Unless the rules of the game are set
لیکچر نمبر 48: اقسام مدات (بقیہ)
مساجد ہر دور میں اور ہر خطے میں مسلمان آبادیوں کی شناخت اور پہچان رہی ہیں۔ اسی وجہ سے مساجد کو گنبدوں اور میناروں سے مزین کیا جاتا رہا ہے۔ مسجد کا مقام اسلامی معاشرے میں وہی ہے جو انسان کے جسم میں دل کو حاصل ہے۔ مسجد آباد رہے تو بستی پر اللہ کا کرم برستا رہتا ہے۔ مسجدیں ویران ہو جائیں تو بستیاں بھی ویران اور سنسان ہو جاتی ہیں۔ مساجد اسلام کے پاکیزہ روحانی تربیتی نظام کی طہارت و نفاست کے مراکز ہیں۔ مساجد میں اجتماعی عبادات کا فریضہ مسلمانوں کو باہمی محبت اور پر امن بقاے باہمی کی دعوت فکر بھی دیتا ہے۔ لیکن ہمارے دورِ فتن کا یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پاکستان سمیت بعض اسلامی ممالک میں مذہبی تفرقہ پروری نے مسلمانوں کے یہ پاکیزہ روحانی مراکز بھی متنازع بنا دیے ہیں۔ مختلف مذہبی فرقوں نے اپنی اپنی مساجد بنالی ہیں جہاں ایک دوسرے کو بالعموم برداشت نہیں کیا جاتا۔ مسلمانوں کا یہ طرزِ عمل اسلام کے اس عظیم نظام تربیت و عبادت پر ایک بدنما دھبہ ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مساجد تمام کلمہ گو مسلمانوں کے لئے کھلی ہونی چاہئیں۔ جس طرح اللہ کے گھروں کا تقدس اور احترام سارے مسلمانوں پر واجب ہے اسی طرح ان میں ذکر اذکار اور معمولات تربیت بھی جملہ اہل اسلام کا حق ہے۔
الغرض ممدوحِ خالقِ کائنات رحمۃً للعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مدح خوانی کرنا، آپ ﷺ کی نعت پڑھنا، سننا اور محافلِ نعت منعقد کرنا قرآن و سنت کے عین مطابق جائز بلکہ مطلوب اَمر ہے۔ یہ عمل قرونِ اُولیٰ سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے اور اِن شاء اللہ العزیز تا اَبد جاری رہے گا۔
Islam main Saza-e-Qayd awr Jail ka Tasawwur اسلام Unless the rules of the